بسم اللہ الرحمن الرحیم

نوجوان نسل اور انحراف ۔اسباب و علاج

فضیلۃ الشیخ / عبد الباری الثبیتي ۔ حفظہ اللہ

حمد و ثناء کے بعد
میں آپ لوگوں کو اور اپنے آپ کو اللہ کا ڈر (تقوی ) اختیار کرنے کی وصیت و نصحیت کرتا ھوں۔ ارشاد الہی ھے ۔
” اے ایمان والو! اللہ تعالی سے ایسے ڈرتے رھو Û” جیسے اس سے ڈرنے کا حق Ú¾Û’ Û” اور تمہیں موت Ø¢Û“ تو صرف اسلام پر ہی Ø¢Û“ Û” ” ( آل عمران ۔١٠٢ )

نوجوان نسل قوم کا سرمایہ :
نوجوان طبقہ امت و قوم کا ایک قیمتی سرمایہ اور گراں مایہ دولت و ثروت شمار ھوتا ھے ، اور جب اسے خیر و بھلائی کے کاموں ، عزت و عظمت کے تحفظ اور تعمیر و ترقی کے امور میں صرف کیا جاۓ تو پھر یہ طبقہ ایک نعمت اورخیروبرکت بن جاتا ھے اور اگر اسے شرو فساد اپنے رنگ میں رنگ لے تو یہی طبقہ ایک خطرناک شر اور انتہائی نقصاندہ چیز بن کر سامنے آجاتا ھے ۔

آج کا منحرف کل کا مجرم :
اس شباب و جوانی میں اخلاق و کردار کا انحراف انتہائی خطرناک اور خوفناک ھے ۔ حتی کے آج کا منحرف کل کا مجرم ھوتا ھے ، اگر اسے اللہ تعالی کی رحمت وعنایت اپنے ساۓ میں نہ لے لے اور جس قدر نوجوان طبقے کا اہتمام اور ان کے مسائل میں دلچسپی لی جاۓ گی اسی قدر امت اور معاشرے کا انجام بہتر ھو گا ۔

آج کا اہم مسلہ انحراف شباب :
آج کل کا اہم ترین مسلہ نوجوان نسل کا انحراف ہی ھے اور وہ امور جو والدین اور تعلیم و تربیت سے متعلقہ لوگوں کو پریشان کیے ھوۓ ہیں ان میں سے یہ ایک اہم ترین موضوع ھے ۔ انحراف کے بارے میں ہم پر جذبات غالب آجاتے ہیں اور ہم انتہائی سطح انداز اختیار کر لیتے ہیں اور کسی مسئلہ کو اسی طرح نرمی سے دیکھے چلے جاتے ہیں اور بلآخر وہ زخم بہت بڑا ھو کر پھٹ جاتا ھے اور پھر ہم بیکار کئ کئ مرتبہ اس پر آہیں بھرتے ہیں۔

تلاش اسباب و علاج :
اس مسئلہ کا مفید و کامیاب علاج یہ ھے کہ عقل کو کام میں لایا جاۓ گہری فکر و نظر سے کام لیا جاۓ اور اس مسئلے کا تجزیہ کرتے ھوۓ ، اس کے اسباب کو پڑھا جاۓ ، مستقبل پر غور کیا جاۓ اور دین و شریعت کی بنیادوں پر پورے منظم انداز سے اس مسئلہ کی روک تھام اور بچاؤ کی تدابیر اختیار کی جائیں ،
یہ کوئی باعث تعجب بات نہیں ھے کہ بعض ماہرین نوجوانوں کے انحراف کا مسئلہ حل کرنے کےلیے کوشاں ھوں ، وہ اس کا خصوصی اہتمام کریں تاکہ انحراف کے تمام سوتے بند کردیے جائیں اور اس کی بیخ کنی کی جاسکے کیونکہ نوجوان نسل ہی تو امت کی امید ،مستقبل کا سہارا ، معاشرے کا سرمایہ اور امتوں کی زندگی کا ایک فعال حصہ یا ریڑھ کی ہڈی ھوتی ھے ۔

ہرملک میں مرض انحراف :
نوجوان نسل کا انحراف آج ہر ملک کے افق پر منڈلانے والا قطرہ اور ہر معاشرے کو درپیش مسئلہ ھے اور انحراف کا دائرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ھے جب لوگ اپنے آپ کو غیرمحفوظ پاتے ہیں ،فکر و نظر پر کوئی پہرہ نہیں ھوتا اور ان کی شخصیت بلاتربیت و اطاعت ھوتی ھے ۔ نوجوان بھی تو دوسرے لوگوں کی طرح ھوتے ہیں وہ غلطی بھی کرتے ہیں اور صحیح بھی ھوتے ہیں ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ھے ۔
“تمام بنی آدم خطا کار ہیں اور بہترین خطاکار وہ Ú¾Û’ جو (خطاکر بیھٹیں تو) توبہ کر لیں” (سنن ترمذی )

خیر امت کے نوجوان :
یہ امت مسلمہ جسے اللہ تعالی نے تمام امتوں سے بہترین امت قرار دیا ھے یہ ہر گز نہیں چاہتی کہ اس کا نوجوان طبقہ محض عام سے لوگوں پر مشتمل ھو بلکہ وہ صرف یہی چاہتی ھے کہ اس کی نوجوان نسل زمین کے سردار اور اخلاقی میدان کے قائدین ھوں ۔ اسلام کا نور پھیلنے سے لیکر آج تک ہماری امت کی تاریخ میں اس امت کی نوجوان نسل نے بڑے بڑے کارنامے اور اعلی نمونے رقم کیے ہیں لیکن وہ نسل نو جو صحیح طور پر ایمان لاۓ ، عمدہ و اعلی اعمال صالحہ سرانجام دیۓ اور انھوں نے اللہ تعالی کے نازل کردہ منہج و شریعت کو اپنایا ۔ ان نوجوانوں نے اپنی قوم کو اپنے اقوال سے سعادت و خوشی کے ساتھ مالا مال کیا اور اپنے عمدہ اخلاق و اعلی کردار و عمل سے معاشرے کے ارمان کو تقویت دی اور اس کے نتیجہ میں عام خیر و بھلائی کی بشارتیں ملیں اور حقیقت یہ ھے کہ یہ نوجوان تو دوسروں پر اللہ تعالی کی نعمت ھے ۔

غلو اور تکفیری ٹولہ :
ہمارے موجودہ دور میں شکوک و شہبات کے راستے بہت زیادہ ھو گۓ ہیں اور خواہشات نفس کی تسکین کا سامان بہت عام و بے لگام ھوگیا ھے اور ہماری نوجوان نسل ان زہریلے تیروں اور بدبودار منافقانہ اور غدارانہ نیزوں کا نشانہ بنی ھوئی ھے جس کی تلخی کا گھونٹ معاشرے کو غلو و مبالغہ آمیزی ، تکفیری فکر اور باعث غضب الہی اخلاقی انحلال و گراوٹ کی شکل میں پینا پڑ رہا ھے ۔

ہراول دستہ اسلام :
مسلمانوں کی پہلی نسل اور ہراول دستہ اسلام کا معاشرہ ان باطل فرقوں ،گمراہ ٹولوں اور منافقانہ وکفر ملک و اقوام سے ملوث نہیں ھوا تھا اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان گندگیوں سے دوچار ھوۓ تھے ۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اس نسل کو نہایت قوی تحفظ حاصل تھا ۔ چنانچہ حدیث میں آتا ھے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و سلم باہر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس تشریف لاۓ تو دیکھا کہ وہ لوگ تقدیر کے مسئلہ پر لے دے کر رہے ہیں ۔کوئی یہ آیت پیش کر رہ ھے اور کوئی اس آیت سے استدلال کر رہا ھے ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس پر سخت ناراض ھوۓ اور آپ کا رخ انور خصے سے یوں لال سرخ ھو گیا گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے چہرے پر انار پھوٹ گیا ھو ،۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ۔

” کیا تم اس بات کا Ø­Ú©Ù… دیا گیا Ú¾Û’ یا تمہیں یہ کام سونپا گیا Ú¾Û’ کہ تم قرآن کریم Ú©ÛŒ بعض آیات Ú©Ùˆ بعض دوسری آیات سے ٹکرتے پھرو Û” تم سے پہلے Ú©Ú†Ú¾ قومیں اسی قسم Ú©Û’ افعال Ú©ÛŒ پاداش میں گمراہ Ú¾Ùˆ گئیں Û” یہاں جو Ú©Ú†Ú¾ Ú†Ù„ رہا Ú¾Û’ تمہیں اس سے کوئی مطلب نہیں Û” دیکھو! جس کا تمہیں Ø­Ú©Ù… دیا گیا Ú¾Û’ اس پر عمل کرو اور جس کام سے تمہیں روکا گیا Ú¾Û’ اس سے باز آجاؤ Û” ” ( مسند احمد )

تکفیری خارجیوں کا تعارف :
نبی صلی اللہ علیہ Ùˆ سلم اس وقت سخت ناراض Ùˆ غضبناک Ú¾ÙˆÛ“ جب اپنے آپ Ú©Ùˆ پڑھا لکھا سمجھنے والا ایک جاہل نبی صلی اللہ علیہ Ùˆ سلم Ú©Û’ غنمتوں Ú©Ùˆ تقسیم کرنے پر اعتراض کرنے Ú©Û’ لیے کھڑا ھوگیا اور کہنے لگا : اے محمد ! عدل کرو Û” اس وقت نبی صلی اللہ علیہ Ùˆ سلم Ù†Û’ اسے فرمایا ØŒ تیرا ستیاناس Ú¾Ùˆ اگر میں بھی عدل نہیں کروں گا تو پھر اور کون کرے گا ØŸ جب وہ چلا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ Ùˆ سلم Ù†Û’ ارشاد فرمایا : اسے Ú†Ú¾ÙˆÚ‘ÙˆÛ” اس Ú©Û’ ساتھی ایسے ھونگے کہ تم انکی نمازوں Ú©Û’ سامنے اپنی نمازوں Ú©Ùˆ حقیر سمجھو Ú¯Û’ ØŒ انکے روزوں Ú©Û’ مقابلے میں اپنے روزوں Ú©Ùˆ معمولی خیال کرو Ú¯Û’ ØŒ وہ قرآن کریم Ú©ÛŒ تلاوت کریں Ú¯Û’ جو ( ان Ú©Û’ حلق تک ہی رہے گا ) ان Ú©ÛŒ ہنسلیوں سے Ø¢Ú¯Û’ نہیں جاۓ گا Û” وہ اسلام سے اس طرح Ù†Ú©Ù„ جائیں Ú¯Û’ جیسے تیر کمان سے Ù†Ú©Ù„ جاتا Ú¾Û’ Û” ” (صحیح مسلم )

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بیدار مغزی :
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیدار مغزی سے کام لیا اور تمام خوفناک فتنوں کے راستے بند کر دیۓ اور ایک منہج کے تحت ان کے خلاف ایک مضبوط موقف اختیار کرتے ھوۓ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ خلیفہ راشد امیر المومینین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ہی دیکھ لیں کہ انھوں نے جب صبیغ کو دیکھا کہ وہ کتاب و سنت کے مشکل مسائل کی کھوج میں لگا ھوا ھے تو اس کے سر پر کھجور کی ٹیڑھی لکڑی دے ماری ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے روایت حدیث کے سلسلہ میں بڑی سخت احتیاط سے کام لیا اور انھوں نے مسائل مشکلہ اور تنگ و عاجز کر دینے والے امور اور سوال میں تکلیف سے کام لینے جیسے سب کاموں سے لوگوں کو روک دیا اور ایسے ہی دوسرے قواعد اپناۓ جنھوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کےلیے ان کا دین محفوظ رکھا ۔

مخرب اخلاق و امن انحراف :
انحراف کی ایک قسم وہ ھے جو اخلاق کو خراب کرتی اور قدروں کو تباہ کرکے رکھ دیتی ھے اور ایک بدترین جرم اور جان بوجھ کر کی جانے والی خطا کی شکل اختیار کر جاتی ھے اور اس سے معاشرے کی سلامتی ،امن و امان اور اس کے نظام کو سخت نقصان پہنچاتی ھے خصوصا جب وہ انحراف لاپرواہی اور اس پر اصرار کو بھی شامل ھو یا پھر وہ کسی گناہ کے ارتکاب اور ایسے کبیر گناھوں سے اپنے ہاتھوں کو رنگنے کی صورت میں ھو جن پر اللہ تعالی نے دردناک عذاب کی وعید سنائی ھے ۔

ہلاکت کے دھانے پر :
اخلاقی قاعدے کی سلامتی امت کی زندگی میں امن و استقرار کی راہ اور اس کی قوت کا ذریعہ ھے جب کسی امت کے افراد کا سلوک و کردار انحراف کا شکار ھو جاۓ ،خواہشات نفس کا آتش فشاں پھٹ پڑے اور تسکین جذبات کا داعیہ غالب آجاۓ تو ایسی امت ہلاکت کے دھانے پر کھڑی ھوتی ھے اور وہ تباہی و زودل کو آوازیں دے رہی ھوتی ھے ۔ ارشاد الہی ہے :

” اور جب ہمارا ارادہ کسی بستی Ú©Ùˆ ہلاک کرنے کا Ú¾Ùˆ تو وہاں Ú©Û’ آسودہ حال لوگوں Ú©Ùˆ (فورحش پر) مامور کردیا تو وہ نافرمانیاں کرتے رہے پھر اس پر عذاب کا Ø­Ú©Ù… ثابت Ú¾Ùˆ گیا اور ہم Ù†Û’ اسے ہلاک کر ڈالا Û” ” ( بنی اسرائیل ۔١٦ )

تعمیر شخصیت و کردار میں خاندان کا کردار :
نوجوان نسل کی تربیت و تیاری اور اس کی شخصیت کو تعمیر کرنے کا پہلا مرحلہ اور واضح ادارہ اس کا خاندان ھوتا ھے ۔ اس سے خیروبھلائی یاشروبرائی کا صدور ھوتا ھے اور اسی سے بچے کے انحراف یا صلاح و سدھار کی راہ متعین ھوتی ھے ۔ اگر والدین خصوصا باپ اپنے خاندانوں یا گھرانوں کی تربیت سے اپنی توجہ ہٹا لیں اور صرف اسے ہی اپنی توجہ کا مرکز بنا لیں کہ ان کےلیے مال و دولت کا ذخیرہ مہیا کرنا ھے ۔ لڑکوں لڑکیوں کی لگامیں ڈھیلی چھوڑ دی جائیں ۔ان کی باگیں انہی کے کندھوں پر ڈال دی جاہیں ان کی تربیت میں کوتاہی برتی جاۓ اور ان کی راہنمائی و ہدایت کےلیے کوئی وقت ہی نہ دیا جاۓ تو ایسا خاندان اپنا رول ادا کرنے سے عاری ھوتا ھے اور وہ اپنی ذمہ داری صحیح طریقے سے نبھانے سے قاصر شمار ھوگا ۔

صرف دولت ہی نہیں تربیت بھی :
بکثرت باپ ایسے ہیں کہ اپنے بچوں کے ساتھ ان کا تعلق اور اپنے خاندان کے سلسلے میں وہ اپنی ذمہ داری صرف مالی حساب کتاب سے زیادہ نہیں سمجھتے کہ بچوں کے کھانے پینے ، پہننےاور سیروتقریح کےلیے وافر اخراجات مہیا کر دینا ہی ان کی ڈیوٹی ھے ۔ جہاں تک ان کی اخلاقی تربیت ،کردار کی تہذیب و اصلاح اور ان کی شخصت کی تعمیر و بناء کا معاملہ ھے تو یہ امور ان کی ذمہ داریوں کی فہرست کے سب سے آخر میں آتے ہیں جب کے کسی بھی صاحب عقل و فہم شخص کو اس میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ نہیں کہ جب والدین اپنے بچوں کی صحیح تریبت کريں اور اسے اپنی زندگی کی اہم ترین ذمہ داری بنا لیں تو وہ اپنے بچوں کو انحراف سے تحفظ دے سکتے ہیں اور انہیں دردناک انجام تک پہنچنے سے بچاسکتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنے معاشرے کے امن و استقرار کو قائم کرنے میں بھی ایک فعال کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ھے ۔

” اے ایمان والو ! اپنے آپ Ú©Ùˆ اور اپنے اہل خانہ Ú©Ùˆ جہنم Ú©ÛŒ Ø¢Ú¯ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پھتر ہیں اس پر تند خو اور سخت گیرو سخت مزاج فرشے (مقرر ) ہیں اور اللہ تعالی انہيں جو Ø­Ú©Ù… دیتا Ú¾Û’ وہ اس Ú©ÛŒ نافرمانی نہیں کرتے اور جو Ø­Ú©Ù… انہیں ملتا Ú¾Û’ وہ اسے بجا لاتے ہیں Û” ” ( التحریم Û”Ù¦ )
جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی ارشاد فرمایا ھے ۔
” (تم میں سے ) مرد اپنے گھر والوں کا نگران Ú¾Û’ اور وہ اپنی زیردست رعایا Ú©Û’ بارے میں جوابدہ Ú¾Û’ اور عورت اپنے شوہر Ú©Û’ گھر Ú©ÛŒ نگران Ú¾Û’ اور وہ اپنی زیردست رعایا (بچوں ) Ú©Û’ بارے میں جوابدہ Ú¾Û’ Û””(صحیح بخاری)

والدین کا احساس ذمہ داری :

اسلام میں نوجوان نسل کو انحراف سے بچا نے کا ذمہ دار خاندان ھے اور اگر بچوں ميں دینی غلو و تشدد اور مبالغہ آمیزی کی خو اور اخلاقی انتہاء پسندی آجاۓ تو اس کے زیادہ تر ذمہ دار ان کے والدین ہی ھوتے ہیں اور اسی غلو و انتہاپسندی کے تلخ و ترش پھل کا حظ وافر بھی انہیں ہی ملتا ھے ۔ کیونکہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ھے ۔
” ہر بچہ فطرت (اسلام ) پر پیدا ھوتا Ú¾Û’ Û” پھر اسے اس Ú©Û’ ماں باپ یہودی ØŒ نصرانی (عیسائی ) یا مجوسی بنا دیتے ہیں جیسے چوپاۓ تو چوپاۓ Ú©Ùˆ ہی جنم دیتے ہیں یا آپ ان میں سے ( بوقت ولادت ) کسی Ú©Ùˆ نکٹا Ùˆ کنکٹا دیکھتے ہیں Û”” ( صحیح بخاری )

گھریلو ناچاقیاں اور انحراف :
وہ خاندان جسکی فضائیں ابرآلود اور جسکا مطلع گردآلود و خراب ھو وہ انحراف کو جنم دینے کا باعث بنتا ھے ۔ وہ گھر جس میں ہر وقت میاں بیوی کے باہمی جھگڑے اور نوک جھونک کی فضا بنی رہے ۔ اس گھر کی چاردیواری میں اہل خانہ ایک دوسرے سے باہم آویزاں اور اور دست و گریبان رہیں ، اختلافات سر اٹھاۓ رکھیں وہ گھر تربیت اور امن و استقرار نفس کا مقام نہیں ھو سکتا بلکہ ایسے گھر سے متعلقہ لوگ اس فضاء اور اس جگہ سے بھاگ جانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں جہاں انہیں یہ گھٹن محسوس نہ ھو اور اب ممکن ھے کہ انہیں بری صحبت اور شریر ساتھیوں کی رفاقت مل جاۓ اور اسے وہ راستے آسانی سے ہاتھ لگ جائیں کہ جن پر چل کر وہ مجرم بن جاۓ ۔ کیوں نہیں ؟ اس کے ماں باپ نے اس کی صحیح نگرانی ، خیرخواہی ، اور راہنمائی نہیں کی اور اسے ہدایت و نور کاراستہ بتانے والا ہی کوئی نہیں تو پھر اس کا منحرف ھو جانا اور مجرم بن جانا کوئی انہونی بات تو نہیں ھے۔

طلاق اور انحراف :
طلاق بھی ایک خطرناک چیز ھے ۔ جو کہ معاشروں کے ڈھانچے کو توڑ کر رکھ دیتی ھے اور یہ بچوں میں انحراف پیدا کرنے کے بڑے اور بنیادی اسباب میں سے ھے خصوصا جب کہ دینی طور پر کوئی ڈانٹ ڈپٹ کرنے والا بھی نہ ھو اور ہر طلاق کے نتیجے میں بہت واضح نقصانات اور اس کے گہرے اثرات سامنے آتے ہیں ۔ بلکہ یہ طلاق تو معاشرے کے سینے میں چھرا گونپ دینے کے برابر ھے جس سے معاشرے کے ڈھانچے سے مسلسل خون رستا رہتا ھے ۔
جو بچہ طلاق کی جہنم سے گھبرا کر گھر سے نکلتا ھے اور ھو سکتا ھے کہ باہر اسے کوئی خیرخواہ نہ ملے اور نہ کوئی ایسا ساتھی میسر آۓ جو غلط کام سے اسے روکے اور برے ساتھی تو برے کام کو بھی سنوار کر ہی پیش کریں گے اور اہل فساد تو کمین گاہ لگاۓ بیٹھے ھوتے ہیں ۔
معاشرہ اور خصوصا اس کے اہل و دانش افراد سے مطالبہ ھے کہ وہ طلاق کے اس بڑھتے ھوۓ رجحان کو روکیں جو کہ انتہائی المناک ھے تاکہ اس کے تباہ کن اثرات سے معاشرے کو محفوظ کیا جاسکے ۔

فقر و تنگدستی اور انحراف :
اس انحراف و بے راہ روی کے اسباب میں سے بعض خاندانوں کا فقر و تنگدستی میں مبتلا ھوتا بھی ھے ۔ ایسے میں بعض لڑکے گھر سے تو اس لیے باہر نکلتے ہیں کہ وہ کہیں سے رزق کو تلاش کریں لیکن ان کی جہالت و لاعلمی اور ادراک کی کمی کے نتیجہ میں وہ برے ساتھیوں اور اہل شر کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور وہ انہیں انحراف کی راہ پر چڑھادیتے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم فقر و تنگدستی سے اللہ تعالی کی پناہ مانگا کرتے تھے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی مسنون دعاؤں میں سے ہی یہ دعاء بھی ھے ۔

” اللھم انی اعوذبک من الکفر Ùˆ الفقر ”
” اے اللہ ! میں کفر Ùˆ فقر سے تیری پناہ مانگتا Ú¾ÙˆÚº ”

اسلامی نظام زکوۃ و صدقات :
اس فقر اور اس کے اثرات سے بچنے کے لیے ہی اسلام نے زکوۃ فرض کی اور مالدار لوگوں کو صدقہ دینے کی ترغیب دلائی اور اجتماعی و معاشرتی خودکفالت کے مفہوم کو اجاگر کیا اور لوگوں کو اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ وہ یتیموں ، فقیروں اور مسکینوں کے حالات کی خبر گیری کرتے رہیں اور اس پر بہت بڑے اجروثواب کا وعدہ دیا گیا ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ھے ۔
” میں اور یتیم Ú©ÛŒ کفالت کرنے والا جنت میں یوں اکٹھے Ú¾ÙˆÚº Ú¯Û’ اور (اس قرب Ú©Ùˆ واضح کرنے کےلیے ) آپ صلی اللہ علیہ Ùˆ سلم Ù†Û’ اپنی درمیانی اور اس Ú©Û’ ساتھ والی انگلیوں سے اشارہ کرتے Ú¾ÙˆÛ“ انہیں ملایا اور الگ الگ ہٹایا Û”” ( صحیح بخاری) Û”

خیراتی اداروں کا کردار :
اس باھمی تکافل و تعاون اور خود کفالت کے لۓ ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ خیراتی ادارے جو یتیموں فقیروں اور مسکینوں کی خبرگیری کرتے ہیں ان کے ساتھ بھرپور مالی تعاون کیا جاۓ ۔ بلاد حرمین شریفین نے اس مبارک پروگرام کو منظم کرنے کی بہترین مثالیں قائم کی ہیں ۔ اور آج اس اجتماعی تعاون و تکافل میں بھر پور کردار ادا کرنے والی خیراتی انجمنیں اور ادارے پورے ملک کے کونے کونے میں پھیلے ھوۓ ہیں اور ملک سے غربت و افلاس کے خاتمہ اور بشری و اقتصادی ترقی میں حقیقی شراکت کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ان اداروں نے امیروں اور فقیروں کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کا رول بھی ادا کیا ہے ، معاشرے کے ڈھانچے کو مضبوط کرنے میں اپنا حصہ ڈالا ھے ، اور اسے رحم و کرم اور شفقت و محبت کے مناظر و جذبات سے بھر دیا ہے ۔ آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ کتنے بھوکوں کو کھانا کھلایا گیا ، کتنے بے لباس لوگوں کو کپڑا مہیا کیا گيا ۔ کتنے مصیبت زدہ لوگوں کی مشکلات دور کی گئیں اور کتنے تنگدستی میں مبتلا لوگوں کی مدد کر کے ان کا بوجھ ہلکا کیا گيا ۔

بد نیتوں کے اعتراضات :
ان خیراتی اداروں اور بابرکت جمیعتوں کے خلاف صرف وہی شخص بدزبانی کر سکتا ہے جو بدنیتی میں مبتلا ہے ۔ جس کی فکر مغربی نجاستوں کے ساتھ ملوث ھو چکی ہے ۔ جو شکست خوردہ ہے اور جس کے دل و دماغ اور جذبات سے خیر کے سوتے خشک ھو چکے ہیں اور بھلائی چشمے پھوٹنا بند ھو گۓ ہیں ورنہ یہ ادارے اور خیراتی انجمنیں انتہائی بابرکت ہیں ، ان کے ذریعے خیر و بھلائی عام کی جا رہی ہے ۔ ان کے فوائد بیشمار ہیں اور اس کے پودے انتہائی پاکیزہ ہیں جن کی شادابی و سیرابی کی ذمہ داری ھمارے سربراھوں نے اپنے سر لے رکھی ہے ۔

انحراف کے خاتمہ میں مدارس کا رول :
گھر کے بعد مدرسہ وہ ادارہ ہے جس کا رول بہت ہی مؤثر و گہرا ہے اور نوجوان نسل کو سنوارنے یا بگاڑنے میں زبردست کردار ادا کرتا ہے اور یہ مدرسہ ہی تعمیر یا تخریب کا ہتھیار اٹھاۓ ھوۓ ھے ۔ مدرسے کی اساس اور اس کی سرکردہ چیز اس کے تعلیمی و تربیتی مناھج و کورسسز اور نصاب ہیں اور اس سے کوئی صاحب عقل و خیرد انکار نہیں کر سکتا کہ نوجوان نسل کی عمر کا یہ مرحلہ اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ انھیں بھرپور شرعی نصاب سے مزین کیا جاۓ خصوصا جبکہ آجکل دنیا کے اطراف و اکناف سمٹ کر اسے ایک چھوٹے سے گاؤں کی شکل میں لے آۓ ہیں اور اس گلوبلائيزیشن کے ساتھ ساتھ ہی گمراہ کن افکار بھی بہت پھیلے ھوۓ اور شہوت پرستی کا دیو ننگا ناچ رہا ہے ۔ ایسے میں بھر پور شرعی نصاب سے نوجوان نسل کے دلوں کا تحفط کیا جانا ضروری ہے اور ان کے افکار کو گمراہ کن غلو و مبالغہ ، تشدد و انتہاء پسندی اور تباہ کن فسق و گناھوں سے بچایا جاۓ ۔

اسلامی تعلیمات اور خاتمہ انحراف :
دین اسلام کی تعلیمات نوجوان نسل کو انحراف و بے راہ روی سے بچانے کی سب سے بڑی ضمانت ہیں ۔ تاریخ کا مطالعہ اس بات کو روز روشن کی طرح واضح کر دیتا ہے کہ فرقوں کا ظہور اور انحراف و جرائم کا پھیلاؤ اسلامی معاشرے میں راہ نہ پا سکا اور نہ ہی اسے قلوب و عقول میں جگہ ملی سواۓ اس دور کے جب دعوت و تبلیغ کا کام رک گیا اور شریعت پر عمل چھوٹ گیا اور میرے خیال میں کوئی عقل و دانش کا مالک اس کا انکار نہیں کر سکتا اور تاریخ خود بیشمار واقعات و سنن اور عبرتوں کو اپنے اندر سموۓ ھوۓ ہے ۔

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :

” تم لوگوں سے پہلے بھی بہت سے واقعات گزر Ú†Ú©Û’ ہیں تو تم زمین میں سیر کر Ú©Û’ دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ھوا ØŒ یہ ( قرآن ) عام لوگوں Ú©Û’ Ù„Û“ بیان صریح اور اہل تقوی Ú©Û’ Ù„Û“ ھدایت Ùˆ نصیحت ہے “Û” ( آل عمران ۔١٣٧ ØŒ ١٣٨ ) Û”
جبکہ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی نے فرمایا ہے:
” یہ قرآن وہ راستہ دکھلاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے “Û” ( بنی اسرائیل Û”Ù© ) Û”

فقدان دین و منھج :
جب دین صحیح اور معتدلانہ منھج غائب ھو جاۓ تو نوجوان نسل انحراف بے راہ روی کا نشانہ بن جاتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ نوجوان نسل کے افراد جرائم پیشہ ، دھشت گرد ، انتہاء پسندی ، اندھی تقلید فرنگ کے رسیا اور دشمنان دین کی گود میں سکون محسوس کرنے والے بن جائيں یا منحرفانہ افکار و نظریات کا شکار بن جائيں ۔ یا پھر وہ ایسے ضایع ھوں کہ امت کے جسم میں زھر بن جائيں یا پھر اس کے ڈھانچے کو توڑنے والا ہتھیار بن کر سامنے آ جائيں ۔ وہ اپنا بھی مستقبل برباد کریں اور امت کا بھی اور اپنے آپ کو بھی برباد کر لیں اور امت کو بھی لے ڈوبیں ۔

خاتمۂ انحراف میں مدارس کا کردار :
مدارس کی لڑی اور تعلیم و تربیت کے میدان کا امام و محور معلم و مدرس ھوتا ہے ۔ اسی کی بدولت انحراف و بدراہی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے ۔ اور اسی کے ذریعے نسل نو کا تحفظ ممکن ھوتا ہے لیکن یہ سب اس وقت ھو گا جب وہ اپنے سلوک و کردار میں استقامت کا مالک ، اخلاق و عادات میں نیک خو ، ایمان میں قوی و مضبوط اور اپنے کام میں ماھر ھو اور وہ اپنی امت اور اپنے معاشرے کے مسائل میں گہری دلچسپی رکھتا ھو ۔ کسی مسلمان معاشرے میں معلم و مدرس کی یہ اھم ترین صفات ہیں ۔ اور معلم و استاذ کا بلندترین پیغام ہے ایمان کو غذاء مہیا کر کے اسے تقویت دینا ، اخلاقی نگران اور پاسبان اور پہردار بٹھانا اور نسل نو کے دلوں میں اللہ کے نگران و نگہبان اور ہر قول و فعل کو دیکھنے والا ھونے کا یقین پیدا کرنا ۔

صحبت صالح کا اثر :
اخلاق و کردار کی اصلاح اور اعلی قدروں کے اکتساب میں اچھے دوستوں کی سوسائٹی و صحبت بھی بڑا رنگ دکھاتی ہے حتی کہ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :
” انسان اپنے دوست Ú©Û’ دین پر ھوتا ہے ØŒ لھذا اسے چاہیۓ کہ دیکھ بھال کر کسی Ú©Ùˆ اپنا دوست بناۓ “Û” ( مسند احمد وغیرہ ) Û”
برے ساتھیوں کی صحبت آدمی کو تباہی و بربادی اور انحراف و جرائم کی طرف گھسیٹ لے جاتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسے ھلاکتوں سے ھمکنار کر دے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ صحبت صالح بندے کی استقامت اور عمدہ اخلاق کے اسباب میں سے ہے بلکہ یہ انحراف سے بچنے کے عوامل میں سے ایک فعال ذریعہ ہے ۔

بے کاری اور انحراف :
فرصت و بے کاری بھی انحراف و بدراہی کا ایک سبب ہے بلکہ ان دونوں کا تو جولی دامن کا ساتھ ہے ۔ فرصت کے اوقات کو اگر صحیح مصرف میں نہ لایا جاۓ تو اس کے برے اثرات خود اس شخص کی ذات پر مرتب ھونے لگتے ہیں اور فرصت و بےکاری کا زمانہ تو نو عمر انسان کے انحراف کا ایک موقع ھوتا ہے ۔ لھذا والدین پر واجب ہے کہ وہ اس بات پر گہری نظر رکھیں کہ ان کا لاڈلہ اپنے فارغ اوقات کہاں اور کیسے گزارتا ہے ۔
فرصت و بیکاری کے اوقات میں ممکن ہے کہ بچے کے ذھن میں کوئی منحرفانہ فکر جگہ پکڑ لے یا وہ کسی شہوت پرستی میں مبتلا ھو جاۓ یا کسی دوسری بری عادت میں پھنس جاۓ اور وہ قیامت ہی ڈھا دے ۔

فرصت کے اوقات کی صحیح سرمایہ کاری ؟
تعلیم و تربیت کے اداروں ، دینی و شرعی کورسسز اور قرآن کریم کو حفظ کروانے والے حلقوں نے نسل نو کی ایک بہت بڑی تعداد کے دلوں اور عقول کو اپنے سايۂ تربیت و تحفظ میں لے رکھا ہے لیکن اس کے باوجود ابھی اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ ایسے پر امن تربیتی اداروں کی تعداد کو مزید بڑھایا جاۓ تاکہ ان نوجوانوں کو بھی اپنی گود میں لے کر ان کی تربیت کر سکیں جنھوں نے غلو و مبالغہ آمیزی کو اپنی راہ بنا لیا ہے اور تکفیر کی شمشیر چلانے کو اپنے منھج کا درجہ دے لیا ہے اور ان نوجوانوں کو بھی اپنے دامن تربیت میں لے سکیں جنھوں نے زندگی کے محض حاشیہ و کنارہ پر جینے کو ہی اپنی روش قرار دے لیا ہے ۔ وہ گلی کوچوں اور سڑکوں پر آوارہ گردی کرتے پھرتے ہیں اور جہاں چاہیں فٹ پاتھوں پر ڈیرہ لگا لیتے ہیں ۔ اسی طرح ان نوخیز کونپلوں کو بھی گوشۂ رحمت و شفقت میں جگہ دیں جو شراب و منشیات کا شکار ھو گۓ ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ھے ۔
” جس Ù†Û’ اپنی عمر کا ایک دن بھی اس انداز سے بے کار گزار دیا کہ اس میں نہ کسی کا کوئی حق ادا کیا ØŒ نہ کسی فرض Ú©ÛŒ ادائیگی سے سبکدوش ھوا ،نہ ہی عظمت Ùˆ بزرگی پانے Ú©ÛŒ طرف کوئی قدم اٹھایا یا کوئی ایسا کام کیا جو اس Ú©Û’ لیے باعث ستائش Ùˆ شاباش Ú¾Ùˆ یا کوئی کلمہ خیر سنایا یا کوئی علم سیکھا اس Ù†Û’ اس دن Ú©ÛŒ نافرمانی Ú©ÛŒ اور اپنی ذات پر ظلم کیا Û” ”
میں آپ سب کو اور خود اپنے آپ کو اللہ کے تقوی کی تاکید کرتا ھوں کیونکہ تقوی ہی نجات کی راہ اورفوزو فلاح کا ذریعہ ھے اور اسی سے دنیا و آخرت میں سعادت و خوشی کا حصول ممکن ھے ۔

سیٹلائيٹ اور انحراف :

آج کا دور شہوتوں کو بھڑکانے والا عریانی بردوش دور ھے جو نسل نو کے جذبات کو رنگیخت کرتا اور انسان نما شیطانوں کا سب سے بڑا جال یہ سیٹلائيٹ چینلز ہیں جن میں سے اکثر کا کام ہی یہ ھوگیا ھے کہ وہ انحراف و بےراہ روی کو نہایت بنا سنوار کر پیش کر رہے ہیں اور لوگوں کو بدراہ کرنے پر تلے ھوۓ ہیں اور نوبت یہاں تک پہنچ گئ ھے کہ جب سے ان سیٹلائیٹ چینلوں نے اپنے شر کا بگل بجایا ھے تب سے ان کے مقابلے میں تربیتی اداروں نے ہتھیار ڈال دیۓ ہیں اب صرف وہی چینلز ہیں جو اپنی تمام تر قوتوں اور وسائل کے ذریعے عقلوں کو بگاڑنے ، دلوں میں فساد پیدا کرنے ، آنکھوں سے حیاء کا پردہ ہٹانے اور دینی پاسبان کو کمزور کرنے کےلیے تمام تر کوششیں کر رہے ہیں اور شر کے دروازے کھولے بیٹھے ہیں ۔ ان ذرائع ابلاغ کے موثر اداروں نے مسلمانوں کے خلاف کفار کی فکری یلغار کی راہیں آسان کر دی ہیں اور وہ ان ممالک کا اخلاق و کلچر نقل کرتے چلے آرہے ہیں جن کا دین اسلام سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ھے ان ذرائع نے لوگوں کو فسق و فجور کا ارتکاب کرنے پر دلیر کر دیا ھے اور انہیں انحراف و جرائم کی جرات دے دی ھے ۔

اس درد کا درماں :
اگر ہم اس بےراہ روی و انحراف کا حلقہ تنگ اور اس کا ناطقہ سربگریباں کرنا چاہیں تو ہمیں اس خطرناک ڈراؤنے خواب کا کوئی موثر حل تلاش کرنا چاہیے جوکہ ہمارے دل و دماغ اور قلوب و صدور پر مونگ دل رہا ھے ۔ اس کی زہر ناکیوں کا مقابلہ و علاج ڈھونڈنا چاہیے جو تریاق کاکام کرے اور اس زہر کا اثر ختم کر دے ۔

دعوت و تبلیغ کی ضرورت :
اس انحراف کے علاج کےلیے جو طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں ان میں سے ہی ایک یہ بھی ھے کہ حکمت و دانائی اور اچھی نصیحت کے ساتھ لوگوں کو اللہ تعالی کی طرف دعوت دی جاۓ اور تبلیغ دین کا فریضہ صحیح طور پر ادا کیا جاۓ ۔ مسجد اپنا رول ادا کرے اپنا پیغام عام کرے اور لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کے سلسلہ میں بھر پور انداز سے اپنا کردار ادا کرے ۔ اس طرح انحراف کا خاتمہ کرنے کے وسائل میں سے ہی ایک یہ بھی ھے کہ نوجوان نسل کی تربیت کے ذمہ دار اور دعاہ و مبلغین اپنی اپنی ڈیوٹی نبھائیں اور ذمہ داری کی ادائیگی کا حق ادا کریں ۔

اہل فکرو قلم کا فرض :
ایسے ہی اہل فکر و قلم حضرات کو بھی ہم دعوت دیتے ہیں کہ وہ بھی اس انحراف و بےراہ روی کے مقابلہ میں اپنا حصہ ڈالیں ، اس کی کھلی سٹڈی کریں اور اس کےلیے موثر حل تجویز کریں اور وہ جو کچھ لکھتے ہیں اور نشر کرتے ہیں ان مضامین و مقالات اور آراء و افکار کو پیش کرتے وقت اللہ تعالی سے ڈریں ۔ ارشاد الہی ہے :
” اور (اے بندے ) جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس Ú©Û’ پیچھے مت Ù¾Ú‘Ùˆ کہ کان آنکھ اور دل ان سے (اعضاء Ùˆ جوارح) سے ضرور باز پرس ( جوابدہی ) Ú¾Ùˆ Ú¯ÛŒ Û” ” ( بنی اسرائیل ۔٣٦ )

ہر فرد کی ذمہ داری :
صرف مفکرین اسلام اور قلم ہی نہیں بلکہ ہم میں سے ہر فرد ایک امانتدار پہرے دار اور امت کی حمایت و نگرانی کا ذمہ دار ھے تاکہ اپنے فسادو بگاڑ اور انحراف و بےراہ روی سے بچایا جاسکے اور ہر شخص اپنے معاشرے کی بقاء اور اس کی صفائی و پاکیزگی کا محافظ ھے۔ ارشاد الہی ہے :
” اور آپ کا رب ایسا نہیں کہ بستیوں Ú©Ùˆ ازراہ ظلم تباہ کر دے جبکہ وہاں Ú©Û’ باشندے نیکوکار Ú¾ÙˆÚº Û”” (ھود ۔١١٧ )

محکمہ احتساب کا ادارہ :
معاشرے کی بقاء و پاکیزگی کا ہدف پانے کےلیے ہی یہ بھی ضروری ھے کہ ہم سب ایک دوسرے کو راہ حق پر چلنے کی تاکید کرتے رہیں اور اس راہ میں آنے والی مشکلات کے مقابلے میں صبر کا دامن تھامے رکھنے کی تلقین کرتے رہیں اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے رہیں کہ یہی تو تمام معاشروں کے امن و امان اور سکون و استقرار کا ضامن ھے ۔ ارشاد الہی ہے :
” عصر Ú©ÛŒ قسم ! بے Ø´Ú© انسان نقصان میں Ú¾Û’ سواۓ ان لوگوں Ú©Û’ جو ایمان لاۓ اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق (بات) Ú©ÛŒ تلقین اور صبر Ú©ÛŒ تاکید کرتے رہے Û”( سورہ العصر )

وصلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین
سبحان ربك رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین ۔

Leave a Reply